آیت اللہ العظمی دوزدوزانی تبریزی نے 17 اکتوبر 2021 کو اپنے درس خارج کے بعد افغانستان کے بارے میں فرمایا
آیت اللہ العظمی دوزدوزانی تبریزی نے اپنے درس خارج کے آخر میں 17 اکتوبر 2021 کی تاریخ کو امام باقر علیہ السلام کی اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شیعوں کی علامت اور ھمسایہ اور ھمسایہ داری کی اہمیت کو بیان کیا «… وَ اَلتَّعَهُّدِ لِلْجِيرَانِ مِنَ اَلْفُقَرَاءِ وَ أَهْلِ اَلْمَسْكَنَةِ وَ اَلْغَارِمِينَ وَ اَلْأَيْتَامِ …» یعنی شیعہ وہ نہیں ہے کہ ہمسایہ اس سے پریشان ہو بلکہ اگر ہمسایہ کا کوئی یتیم ہو تو اسکے سرپرستی کی ذمہ داری لے اگر فقیر ہے تو مدد کرے… شیعہ کو کبھی غافل نہیں رہنا چاہیئے اس چیز سے کہ اس کا پڑوسی پریشان ہے
اور اسی طرح ملک اور حکومت بھی پڑوسی رکھتے ہیں وہ کیسی حکومت کہ خاموش بیٹھی رہے اور اسکے ھمسایہ میں قتل و غارتگری ہورہی ہو !؟ پچھلے دو ہفتہ یا دس روز پہلے تقریباً ۵۰۰ افراد خون میں غلطاں ہوئے اور ہم ان سب چیزوں سے غافل ہوکر سکون سے بیٹھے رہیں!!؟ کیا یہی انصاف ہے کہ کوئی بیان اور عملی احتجاج یا ظلم کے خلاف نامہ نہ لکھا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کے رویّہ سے ان کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا ؟!
کسی بیانیہ کا انکے لئے پڑھنا فیضیہ میں اجتماع کرنا و… ان کیلئے کتنا مؤثر ہے؟!
یقیناً مؤثر ہے یہ تمام تر چیزیں لیکن جتنی موثر ہونی چاہیئے تھی ؟ جی نہیں
معظم لہ فرماتے ہیں بیس سال ہوگیا کہ ہم دیکھ رہے ہیں یہ سب بیانیہ صادر ہوتا ہے جسے دیکھتے ہیں سنتے ہیں لیکن ان بیس سالوں میں کتنے افغانستانی بے گھر ہوگئے قتل و غارتگری کے زد میں آگئے ، نہ جانے کتنے یتیم ہوگئے انکے گھر ختم ہوگئے
لیکن اب وضعیت بدل گئی ہے جو کہ پہلی والی صورتحال نہیں ہے جبکہ ابھی کی حکومت گفتگو کرنے کا طریقہ تو الگ ہے لیکن جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہیکہ تلوار کی دھار تو شیعوں کیلئے ہی ہے۔
یہ مقام غور وفکر ہے کہ کیوں یہ دو دھماکہ فقط شیعوں کے مسجدوں میں ہی ہوئے جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا ؟!
یہ اقدامات بہت زیادہ مفید نہیں ہیں لہذا ہمیں کوئی دوسری فکر کرنا ہوگا بلکہ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ کچھ ایسا ہو کہ سازمان بین الاقوام انھیں رسمی طور سے نہ پہچانے اور وہ سب خود کو تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں
ہمارے ذہنی مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور ممکن ہے ہمارے ہاتھوں سے یہ اختیار ختم ہو جائے لیکن وہ حضرات جو حکومت کے کسی منصب اور مقام پر ہیں وہ کچھ کام منطقہ اور ملک کے لیے کرسکتے ہیں آس پاس کے ملکوں کے ساتھ اطراف افغانستان کے افراد کے ساتھ یا وہ افراد جو مذھب کے اعتبار سے مرتبط ہیں یہ سب مل کر جلسہ اور پروگرام میں ان کیلئے فکر کریں اور پھر اپنی درخواست کو سازمان جہان میں بیان کرکے اس پر تاکید کریں یہ سب چیزیں ایک حرکت اور مقدمہ ہے ایک بڑے نتیجہ کو حاصل کرنے کے لیے.
مرجع عالی قدر شیعہ نے اپنے درس کے آخر میں فرمایا کہ انسان ان جیسے حادثوں کو اور افغانستان کے مسلمانوں پر ہو رہے مصیبت کو دیکھ کر واقعا متأثر ہوجاتا ہے
اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے حرکت کے ذریعہ اور جامعہ اسلامی اور اطراف کے ملکوں کے ذریعہ ایک اچھا نتیجہ حاصل کرسکیں.
والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ